اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ترکی اور کئی یورپی ممالک کی حمایت یافتہ مسلج دہشت گرد تنظیم فری سیرین آرمی اور آل سعود اور قطر کے حمایت یافتہ اور القاعدہ سے وابستہ گروپ دولۃ الاسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) اور جبہۃالنصرہ کے درمیان لڑائی جاری ہے؛ داعش نے فری آرمی کے 40 افراد کو ذبح کیا ہے اور فری آرمی نے النصرہ کے چھ افراد کو پھانسی دی ہے۔ ادھر فری سیرین آرمی نامی دہشت گرد تنظیم کے انفارمیشن شعبے کے سربراہ "فہد المصری" نے تمام بیرونی دہشت گرد ٹولوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر شام سے چلے جائیں ورنہ انہین ہلاک کردیا جائے گا۔ المصری نے کہا: بیرونی مسلح تنظیموں کو فوری طور پر شام کی سرزمین چھوڑ دینی چاہئے خواہ وہ تشدد پسند ہوں یا تشدد پسند نہ ہوں اور اگر وہ شام سے نہ نکلے تو ان کو دشمن سمجھا جائے گا اور ان کے خلاف جنگ لڑی جائے گی۔ المصری نے ہفتے کے روز اسکائی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: یہ تشدد پسند تنظیمیں نکال باہری کی جائیں گی اور انہیں فوری طور پر شام سے نکلنا چاہئے کیونکہ ان کے تشدد آمیز اقدامات کی وجہ سے شام میں کوئی بھی انہیں خیر مقدم نہیں کہتا۔ انھوں نے کہا تمام غیرملکی مسلح افراد کو شام چھوڑ کر چلے جانا چاہئے خواہ وہ تشدد پسند ہوں خواہ نہ ہوں اور اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو ہم شامی افواج کے ساتھ کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ داعش اور فری آرمی کے درمیان لڑائیوں اور فری آرمی کے 40 افراد کے داعش کے ہاتھوں قتل کے بعد فری آرمی کے متعدد افراد ترکی فرار ہوئے ہیں اور اس لڑائی سے ایک خاص بات یہ سامنے آئی ہے کہ ان گروپوں کے بیرونی سرپرستوں ـ یعنی سعودی عرب اور ترکی ـ کے درمیان بھی اختلافات پیدا ہوئے ہیں کیونکہ ترکی کو اندرونی مشکلات کا بھی سامنا ہے اور اب اس کے حمایت یافتہ افراد یہ کہہ کر آل سعود اور آل ثانی کے حمایت یافتہ دہشت گردوں سے جان چھڑانا چاہتے ہيں کہ وہ غیر ملکی ہیں جبکہ آل سعود اور آل ثانی کے حمایت افراد ہتھیاروں، مالی وسائل اور زير کنٹرول علاقوں کے حوالے سے فری آرمی کی نسبت زيادہ طاقتور نظر آرہے ہیں گوکہ عالمی سطح پر حکومت کی بہتر پوزیشن اور عسکری میدان میں شامی افواج کی مسلسل پیشقدمیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو القاعدہ کا مستقبل شام میں روشن ہے اور نہ ہی فری سیرین آرمی نامی دہشت گرد ٹولے۔ دریں اثناء دیر الزور میں بھی مسلح دہشت گردوں کی باہمی لڑائی میں بےشمار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ جبکہ الرصافہ کے علاقے میں فوجی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں جوابی فائرنگ کی زد میں آکر چار دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ دیر الزور کے نواحی علاقوں مو حسن اور الکسرہ میں فوجی دستے تعینات کئے گئے ہیں جنہوں نے تعینات ہوتے ہی دہشت گردوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں درجنوں افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ جبیلہ کے علاقے میں بھی سرکاری دستوں نے متعدد مسلح عناصر کو ہلاک کر ڈالا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
دہشت گردوں کی اندرونی جنگ، 40 کو ذبح کیا گیا 6 کو پھانسی دی گئی